4 جون 2015 - 23:31
سعودی عرب؛ مساجد پر بم حملوں میں ملوّث 16 مطلوب سعودی شہریوں کی فہرست جاری

ان سولہ مطلوب افراد میں سعید فلاح عائض ال رشید، فیصل محمد سعید الزہرانی، سویلم الہادی الرویلی، ابراہیم یوسف ابراہیم الوزان، عبدالہادی معیض عبدالہادی القحطانی، عبدالرحیم عبداللہ بن عمر المطلق، احمد سالم احمد الحلیف الغامدی، محمد عوض سعید الفہمی الزہرانی، ہشام فہد محمد الخضیر، حسن محمد الویباری الشمری، سلطان عبدالعزیز الشہری، محسن محمد محسن العتیبی، بسام منصور احمد الیحییٰ، عبدالرحمان محمد علی البکری الشہری، محمد سلیمان رحیان الصقری العنزی اور حسن فرج محمد القحطانی شامل جو تمام کے تمام سعودی شہری ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے مشرقی صوبے القطیف اور شہر الدمام میں دو مساجد پر تباہ کن بم حملوں میں ملوّث سولہ مشتبہ مطلوب افراد کی ایک فہرست جاری کی ہے۔ وزارت داخلہ نے ان سولہ مشتبہ افراد کے مختصر تعارف کے ساتھ تصاویر بھی جاری کی ہیں اور ان کی گرفتاری میں معاون معلومات فراہم کرنے یا مدد دینے والوں کے لیے دو لاکھ ستر ہزار ڈالرز کی انعامی رقم کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ وزارتِ داخلہ نے دہشت گردی کی حملے کو ناکام بنانے میں مدد دینے والے فرد کے لیے انیس لاکھ ڈالرز کی انعامی رقم کا اعلان کیا ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ جمعہ کو سعودی عرب کے مشرقی شہر الدمام میں اہل تشیع کی مسجد العنود کے باہر ایک حملہ آور بمبار نے بارود سے بھری کار کو دھماکے سے اڑا دیا تھا جس کے نتیجے میں چار افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔
اس سے پہلے 22 مئی کو سعودی عرب کے مشرقی صوبے القطیف میں واقع قصبے القدیح میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے دوران اسی انداز میں اہل تشیع کی ایک مسجد میں خودکش بم حملہ کیا گیا تھا۔ اس بم حملے میں اکیس افراد جاں بحق اور اسّی سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔

عراق اور شام میں برسرپیکار دہشتگرد گروپ داعش سے وابستہ ایک سعودی سیل نے اس خودکش بم حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔ سعودی حکام نے القدیح میں حملہ کرنے والے خودکش بمبار کی شناخت صالح بن عبدالرحمان صالح القشعمی کے نام سے کی تھی اور داعش سے وابستہ سیل کے چھبیس ارکان کو گرفتار کرلیا تھا۔ سعودی وزارت داخلہ کے مطابق خودکش بمبار کے داعش کے ساتھ روابط استوار تھے۔


۔۔۔۔۔۔۔

/169